کچھ باتیں مشہور مناظرے سے متعلق
مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود (The Existence of God) کے حوالے سے مناظرے کو مکمل دیکھنے کے بعد علم کلام اور فلسفہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند ایک نکات عرض ہیں:
۱۔ مفتی صاحب نے بہت اچھی گفتگو کی۔ دلائل سے بات کی۔ میرے خیال سے وہ منطق اور فلسفہ خوب پڑھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بہتر دفاع کر پائے۔ اور پھر انگلش اور زبانِ روز پر تسلط ان کا پلس پوائنٹ تھا۔
۲۔ جاوید اختر صاحب نے Faith اور Belief میں جو فرق بیان کیا وہ بالکل غلط ہے۔ وہ دینی عقائد کو فیتھ میں ڈال رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ فیتھ وہ ہے جس پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یہ ایک تہمت کے سوا کچھ نہیں۔
موجودہ عیسائیت کی حد تک شاید یہ بات درست ہو، لیکن اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ جب تک دلیل نہ ہو کوئی بات قبول کی ہی نہیں جا سکتی۔ قرآن کریم نے بھی کہا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل اور برہان لے آو۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
۳۔ جاوید صاحب کا یہ کہنا کہ تاریخی طور پر بہت سارے خدا ختم ہوئے ہیں یہ خدا کے تصور کے ہی غلط ہے۔ جو ختم ہو وہ کیسے خدا ہو سکتا ہے؟ خدا کے بارے میں ہمارا نظریہ ہے کہ وہ ازلی اور ابدی (Eternal) ہے۔ خدا واجب الوجود (Necessary Being) ہے۔ واجب الوجود کے بارے میں ختم ہونے کی بات تناقض(Contradiction) ہے۔
۴۔ یہ کہنا کہ "مذہب سوال کی اجازت نہیں دیتا" یہ بھی تہمت ہی ہے۔ کم از کم اسلام نے سوال کرنے کی پوری اجازت دی ہوئی ہے۔ ہمارے ائمہ علیھم السلام کی سیرت بھی اس بات پر گواہ ہے کہ لوگ ان کے پاس آکر سخت سے سخت سوال پوچھتے تھے۔ فقہی حوالوں سے بھی ہر طرح کے سوالات بلا ججھک پوچھ لیتے تھے۔ احادیث کی کتاب اس بات پر گواہ ہیں۔
۵۔ مذہب سائنس کے خلاف ہے۔ یہ بات بھی انتہائی غلط ہے۔ اسلام نے سائنس کو اہمیت دی ہے۔ زمین اور آسمان کو تسخیر کرنے کی بات کی ہے۔ ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں میں بہت سارے ایسے تھے جو سائنسی علوم پر کام کر رہے تھے اور امام ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ جابر بن حیان، ہشام بن حکم، مفضل بن عمر چند مثالیں ہیں جنہوں نے دینی
برچسب:
نویسنده: هیراد اکبریپور