روح کا اثبات
سوال: اس بات پر کیا دلیل ہے کہ انسان بدن کے علاوہ روح بھی رکھتا ہے؟
سوال کی وضاحت: جو لوگ ہر چیز کو تجربہ اور حس کی بنیاد پر تولتے ہیں ان کے مطابق چونکہ انسان کی روح (نفس) تجربے سے ثابت نہیں اور نہ ہی ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ سکتے ہیں، پس کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انسان بدن کے علاوہ روح بھی رکھتا ہے؟
جواب: روح کے اثبات میں متعدد عقلی اور تجربی دلیلیں دی گئی ہیں۔ یہاں پر چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں۔
۱۔ ابن سینا کی "برہان طلق"
اس دلیل کے مطابق ابن سینا کہتے ہیں کہ ایک ایسے انسان کو فرض کریں جو ہوا میں معلق ہے۔ نہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے، نہ سن رہا ہے، نہ چھو رہا ہے۔ گرمی سردی وغیرہ کا بھی احساس نہیں۔ جسم کے اعضاء بھی ایک دوسرے کو چھو نہیں رہے۔ غرض یہ کہ اس انسان کے تمام حواس معطل ہیں۔ اس انسان نے اس سے پہلے اپنا کوئی حواس استعمال نہیں کیا اور وہ خالی الذہن ہے۔اور یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ انسان بالکل تندرست ہے، کوئی بیماری نہیں۔ کوئی درد یا خوشی وغیرہ بھی نہیں جسے وہ محسوس کر رہا ہو۔ ایسے میں اگر وہ انسان اپنی ذات کی طرف متوجہ ہو، اپنے اندر جھانکیں تو کیا اپنے آپ کو پائے گا یا نہیں؟ ضرور وہ اپنی ذات اور اس حقیقت کو کہ "میں" ہوں درک کر لے گا۔ اب جس چیز کو درک کیا ہے وہ اس کا بدن ہرگز نہیں ہے۔ بدن تو مادی ہے جس کو درک کرنے کے لیے حواس کی ضرورت ہے،اور فرض یہ ہے کہ حواس سارے معطل ہیں۔ پس معلوم ہوتا ہے انسان بدن کےعلاوہ ایک اور حقیقت رکھتا ہے جسے ہم روح یا نفس کہتے ہیں اور یہ روح مادی نہیں، مجرد ہے۔ اس میں مادے کے خواص نہیں پائے جاتے۔
۲۔ تجربی دلیل
سائنس اور تجربے سے ثابت ہے کہ انسان کا بدن اور اس میں موجود تمام خلیے ہر چند سال میں ایک بار مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ پس میرا آج کا بدن وہ بدن نہیں ہے جو آج سے دس سال پہلے میرا بدن تھا۔ پس انسان کا بدن متغیر ہے۔ لیکن انسان جب اپنی ذات اور حقیقت میں غور کرتا ہے تو پاتا ہے کہ میں وہی ہوں جو آج سے دس سال پہلے تھا۔ میں وہی "میں" ہوں جو بچپن میں تھا، جو جوانی میں تھا۔ اس "میں" میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ وہ ثابت ہے، متغیر نہیں۔
جو ثابت ہے، وہ اس کے علاوہ ہے جو متغیر ہے۔ پس انسان بدنِ متغیر کے علاوہ ، ایک حقیقتِ ثابت بھی رکھتا ہے جسے ہم روح یا نفس کہتے ہیں۔ بدن ، مادی ہے ،ا ور روح مجرد۔ اسی لیے بدن کو تقسیم کر سکتے ہیں، تجزیہ کر سکتے ہیں، بدن کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ لیکن روح میں یہ خصوصیات نہیں۔
یا مثلا انسان جب خواب دیکھتا ہے، اور ہزاروں کیلو مٹر کا فاصلہ پل بھر میں طے کرتا ہے تو وہاں اس کا بدن تو بستر پر پڑا ہے۔ بدن یہ کام نہیں کر رہا۔ پس انسان کے اندر ایک اور جہت ہے اور ان امور کا تعلق اس جہت سے ہے۔
یا فرض کر لیں کسی جنگ کی وجہ سے انسان کے بازو یا دونوں پاوں کٹ جاتے ہیں۔ اس کا بدن ضرور ناقص ہوا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے اندر جھانکتا ہے تو کیا اس کی "میں" یا "من" میں کوئی کمی آئی ہے۔وہ وہی انسان ہے جو جنگ سے پہلے تھا۔ پس یہ حقیقت جس میں کوئی کمی نہیں ہوئی ، در حالیکہ بدن میں نقص آیا ہے، یہ حقیقت بدن کے علاوہ اور ہے جسے ہم روح یا نفس کہتے ہیں۔
۳۔ انسان مختلف غیر مادّی امور جیسے ریاضی، یا مفاہیم کلی کو درک کرتا ہے۔ ان امور کا تعلق چونکہ مادے سے نہیں ہے، پس انسان کے اندر ایک اور جہت ہے جسے ہم روح یا نفس کہتے ہیں۔ مثلا ہم ایک ایسے انسان کا تصور کر سکتے ہیں جو صرف انسان ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ مرد ہے یا عورت، جوان ہے یا بوڑھا، چھوٹے قد کا ہے یا بلند قد کا۔۔ چونکہ انسان کے انسان ہونے میں ان چیزوں میں سے کسی ایک کا بھی عمل دخل نہیں۔ ایسا انسان جو صرف انسان ہو اور اس میں یہ ساری خصوصیات نا ہوں، باہر کی دنیا میں تو موجود نہیں، چونکہ باہر جو بھی انسان ہوگا وہ یا مرد ہوگا یا عورت، یا بڑے قد کا ہوگا یا چھوٹے قد کا، یا امیر ہوگا یا غریب۔۔۔ پس ایسا انسان خارج میں موجود نہیں۔ لیکن ہم ایسے انسان کو تصور کر سکتے ہیں۔ پس یہ تصور مادی نہیں۔ انسان میں ایک اور جہت اور رخ ہے جسے ہم روح یا نفس کہتے ہیں وہاں پر اس طرح کی غیر مادی چیزیں درک ہوتی ہیں، اور وہی نفس اس طرح کے ادراکات کا موطن ہے۔
برچسب: اثبات,
نویسنده: هیراد اکبریپور