"دشمن کی خاردار تاروں سے وہی گزر سکتا ہے، جو اپنے نفس کی خاردار تاروں میں نہ پھنسا ہو۔"
علی چیت سازیان,۔۔ 25 سال کا ایک جوان۔۔ جو اس کم عمری میں ایک پورے لشکر کا کمانڈر بن جاتا ہے۔خلوص، محبت، وفاداری، شجاعت، بہادری اور معاملہ فہمی کا عظیم پیکر۔ نہیں معلوم لوگ کیسے اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ یقینا خدا کا خاص لطف و کرم ان کے شامل ہوگا۔ اس کم عمری میں دین فہمی کے واقعات پڑھ کے انسان ششدر رہ جاتاہے۔ بیوی کہتی ہے: ہم بوعلی ہاسپٹل کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ میں نے علی آغا سے کہا: چند مہینوں بعد ہمارا بچہ اسی ہاسپٹل میں اس دنیا میں آئے گا۔ تعجب کے ساتھ کہا: "یہاں؟" میں نے کہا: "ہاں، یہ پرائیویٹ ہاسپٹل ہے اور ہمدان کا سب سے اچھا ہاسپٹل یہی ہے۔" علی نے کہا: "نہیں، ہم اس ہسپتال میں جائیں گے جہاں سارے غریب لوگ جاتے ہیں۔ یہ امیروں کی جگہ ہے۔ یہاں آنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔" نکاح کے وقت اپنی بیوی سے علی چیت سازیان, کہتے ہیں: "موت سے میرا فاصلہ ایک سیکنڈ کا ہے۔ دعا کریں مجھے شہادت نصیب ہو۔ ہر لمحہ ممکن ہے میں زخمی، اسیر یا شہید ہو جاؤں۔ "" میرے پاس دنیا کے مال سے کچھ بھی نہیں۔ نہ گھر ہے، نہ گاڑی ہے، نہ پیسے ہیں۔ لیکن خدا کا شکر میرا جسم سالم ہے۔ " "حضرت زہراء (س) اور اہل بیت کرام (ع) کے ہم عاشق ہیں۔ ان کے مبارک ناموں پر زبان پر لانے کے لیے بھی ایک خاص قسم کی توفیق اور لیاقت چاہیے۔" یہ کتاب علی چیت سازیان, کی باوفا بیگم زہرا پناہی روا کی آپ بیتی ہے جسے بہناز ضرابی زادہ نے داستان کی شکل میں لکھا ہے۔ کتاب کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مطالعہ کا ذوق رکھنے والے تمام احباب سے کتاب پڑھنے کی سفارش کروں گا۔ رہبر معظم (حفظہ اللہ) کتاب کی تقریظ میں لکھتے ہیں: "ایک ایسے جوان مرد کے جہاد اور اخلاص کی کہانی جس نے جوانی میں ہی بڑے الہی بندوں کا مقام اور مرتبہ پالیا۔ زمین پر بھی اور ملا اعلی میں بھی اس نے عزت پالی۔ یہ مقام اس کو مبارک ہو۔" |
برچسب:
نویسنده: هیراد اکبریپور