خرید بک لینک

انسان, کی معلومات, کا ذریعہ, کیا ہے؟

تحریر: عباس حسینی

انسان, جب اس دنیا میں آتا ہے کیا اس وقت اس کے پاس پہلے سے کچھ معلومات, ہوتی ہیں؟ یا وہ خالی ذہن اس دنیا میں آتا ہے اور اسی دنیا میں معلومات, کے حصول کا آغاز کرتا ہے؟

یہ وہ بنیادی فرق ہے جو یونان کے مشہور فلسفی افلاطون اور ارسطور کے نظریات میں موجود تھا۔ افلاطون کے نظریے کے مطابق انسان, کا تعلق بالائی جہان سے ہے۔ اس جہان میں انسان, کے پاس ساری معلومات, موجود تھیں۔ اس دنیا میں آنے کے بعد انسان, وہ سب کچھ بھول گیا ہے، لہذا صرف یاد دہانی پر وہ بات اسے یاد آجاتی ہے۔ اس لحاظ سے افلاطون کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف یاد دہانی ہے، باقی معلومات, ساری انسان, کے ما فی الضمیر اور لا شعور میں موجود ہیں۔

اس کے مقابلے میں ارسطو کا کہنا تھا کہ انسان, جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ خالی الذہن ہوتا ہے۔ اس کا ذہن ایک سفید کپڑے کی مانند بالکل صاف ہے۔ جوں جوں اس دنیا سے تعلق پیدا کرتا ہے اور چیزوں کو محسوس کرنا شروع کرتا ہے اس کی معلومات, کے حصول کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہی محسوسات جو انسان, حواس خمسہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے اس کی تمام تر معلومات, کا بنیادی ذریعہ, ہیں۔ لہذا کہا گیا اگر کسی انسان, کے پاس کوئی ایک حس (مثلا باصرہ) موجود نہ ہو تو اس سے متعلق علوم اور مفاہیم تک اس کی رسائی نا ممکن ہوگی۔ لہذا پیدائشی طور پر کوئی شخص اندھا ہو تو اس کے پاس کسی بھی رنگ کا کوئی تصور نہیں ہو گااور نہ ہی اسے رنگ کاتصور سمجھایا جا سکے گا۔ (ٹیڑی کھیر والی مثال اردو میں مشہور ہے۔) اسی طرح اس نظریے کے مطابق بالفرض کوئی انسان, پیدائشی طور پر تمام حواس سے محروم ہو تو اس کےلیے کسی بھی قسم کےعلم کا حصول ممکن نہ ہوگا۔

یورپ میں نشات ثانیہ (رنسانس) کے بعد اسی بحث کو لے کر وہاں کے فلسفی دو گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض قائل ہوئے کہ انسان فطری اور ذاتی طور پر کچھ مفاہیم کا حامل ہے۔ ان تصورات کے حصول میں حس اور تجربے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس سوچ کو ریشنلزم (Rationalism) کہا گیا۔ ڈکارٹ، اسپنواز، لایپ نیٹس اور کانٹ اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک پیدائشی طور پر انسان کے وجود میں چند مفاہیم موجود ہیں۔ مثلا کانٹ کے مطابق زمان و مکان کا تصور پیدائشی ہے۔ اس کے مقابلے میں کچھ قائل ہوئے کہ انسان جو بھی علم اور سوچ حاصل کرتا ہے اس کا آغاز اور ابتدا حس ہے، اسی بنا پر ان کے مطابق معیار حس اور تجربہ ہے۔ اس مکتب کو امپریزم(Empiricism) کہا گیا۔ فرانسس بیکن، ہابز، جان لاک، بارکلی اور ہیوم اس سوچ کے حامل چند بڑے نام ہیں۔

اسلامی فلسفے کے مطابق ان میں سے کوئی بھی نظریہ درست نہیں۔ یہ بات درست نہیں کہ انسان پیدائشی اور فطری طور پر بعض مفاہیم اور تصورات کا حامل ہو۔ مثلا جیسے کانٹ نے کہا کہ زمان اور مکان کا تصور انسانی ذہن میں پہلے سے موجود ہے۔ اسلامی فلسفے کے مطابق یہ بات درست نہیں۔ قرآن کی بعض آیات کا بھی کہنا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اس حالت میں پیدا کیا کہ اس کے پاس کسی بھی چیز کا علم نہ تھا۔ البتہ علم حاصل کرنے کے وسیلے اور ذرائع اسے فراہم کیے۔ اسے کان دئیے، آنکھیں دیں اور دل عطا کیا۔ (وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهاتِكُمْ لا تَعْلَمُونَ شَيْئاً وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْأَبْصارَ وَ الْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ) لیکن دوسری طرف سے آمپریسم کا نظریہ بھی درست نہیں۔ ہاں اس حد تک درست ہے کہ تصورات کی ابتدا حس سے ہوتی ہے۔ لیکن معیار حس اور تجربہ ہرگز نہیں۔

البتہ مد نظر رہے کہ یہ ساری بحث، تصور کی بحث ہے۔ لیکن جہاں بحث تصدیق اور حکم کی ہے وہاں فلسفہ اسلامی قائل ہے کہ بعض عقلی احکام ایسے ہیں کہ جو اس کے لیے ذاتی ہیں۔ ان احکام کو صادر کرنے میں عقل کسی اور کا محتاج ہرگز نہیں۔ مثلا عقل خود بخود حکم کرتی ہے کہ "کل، جزء کی نسبت بڑا ہوتا ہے"۔ اس جملےاور اس طرح کے جملوں کے اجزاء کے حصول میں ممکن ہے حس اور تجربے کا عمل دخل ہو، لیکن تصدیق اور حکم جاری کرنے میں عقل مستقل ہے۔

پس ہم کہہ سکتے ہیں تصورات کی ابتداء حس سے ہوتی ہے، لیکن ایسی تصدیقات وجود رکھتی ہیں، بلکہ ان کا وجود ضروری اور حتمی ہیں جو حس اور تجربے پر مقدم ہیں اور ان کا حصول ان کےذریعے سے نہیں ہوا۔

البتہ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ بے شک تصورات کی ابتدا حس سے ہوتی ہے لیکن یہاں حس سے مراد صرف حس ظاہری نہیں ہے، بلکہ حس باطنی بھی اس کو شامل ہے۔ اسی بنا پر فلسفہ اسلامی میں علم حضوری(Knowledge by Presence) کی بحث مطرح ہوئی اور کہا گیا کہ بہت سارے انسانی مفاہیم کا منبع اور سرچشمہ اس کا علم حضوری ہے۔ پس اس مسئلے میں اسلامی فلسفے میں بالکل نئی جہات سے بحث ہوئی ہے۔

برچسب: نویسنده: هیراد اکبری‌پور تاريخ: شنبه 9 آذر 1398 ساعت: 17:31

صفحه بندی