خرید بک لینک

مومن،, مومن کا آئینہ, ہوتا ہے۔

(فلسفی اور عرفانی تفسیر)

احادیث شریفہ میں آیا ہے کہ مومن،, مومن کا آئینہ, ہوتا ہے۔ (المؤمن مرآة المؤمن) اس حدیث کی جو تفسیر عام طور پر کی جاتی ہے اس کے مطابق ہر شخص کو اپنے برادر مومن کے لیے آئینہ, ہونا چاہیے۔ جس طرح آئینہ, بغیر شور مچائے، اس کے سامنے کھڑے شخص کی نہ صرف خوبصورتی اسے دکھاتا ہے بلکہ اس کے عیوب و نقائص بھی اسے بتاتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان کو چاہیے وہ بھی اپنے دینی بھائی کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خامیاں بھی اسے بتائے۔ اس طرح وہ دوسرا شخص اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوگا، ساتھ ساتھ غرور، تکبر، خود پسندی جیسی بیماریوں سے بچ پائے گا۔

لیکن عرفانی تفسیر کے مطابق حدیث میں جو دوسری بار لفظ مومن آیا ہے اس سے مراد اللہ تعالی کی ذات ہے، جیسے خود قرآن مجید نے لفظ مومن،, اللہ کے لیے صفت کے طور پر بیان کیا ہے۔ (هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ) پس اس تفسیر کے مطابق مومن شخص کو اللہ تعالی کا آئینہ, ہونا چاہیے۔

یہ وہی بات ہے جس کی طرف قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر لفظ "آیت" کے ذریعے اشارہ کیا ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالی کی نشانی اور آیت ہے۔ البتہ اس درمیان انسان کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اللہ تعالی کی سب سے بڑی نشانی اور آیت بن سکتا ہے۔ دوسرے موجودات بھی اللہ تعالی کا آئینہ, ہیں لیکن حضرت انسان سب سے بڑا اور بہتر آئینہ, ہے۔ اس آئینے میں اللہ تعالی کی تمام صفات جمالیہ و جلالیہ کا عکس نظر آںا چاہیے۔ اگر اللہ رحیم ہے تو مومن کو بھی رحیم ہونا چاہیے، اگر اللہ کریم ہے تو مومن کو بھی کریم ہونا چاہیے۔ اگر اللہ قوی ہے تو وہ پسند کرتا ہے اس کا عبد بھی قوی ہو، لہذا اسے قوی عبد پسند ہے۔ اگر اللہ علیم ہے تو اسے پسند ہے اس کا عبد مومن بھی عالم ہو۔ اسی طرح صفات جلالیہ میں اگر اللہ تعالی کی صفت قاہر ہے تو اس کے عبد مومن کو چاہیے کہ وہ بھی دشمن پر قہر بن کر برسے۔ (أشداء على الكفار، رحماء بينهم)۔ اسی طرح باقی تمام صفات۔۔۔

خلاصہ یہ کہ عبد مومن اپنے اندر صفات خدا کا جلوہ پیدا کر کے خدا کے قریب سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ جس میں یہ جلوہ سب سے زیادہ ہو وہ خدا کا مقرب ترین بندہ ہے۔ انسان کامل اسے کہا جاتا ہے جو اس حوالے سے بلند ترین مرتبے پر فائز ہو۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ رسول گرامی اسلامی کی ذات اس حوالے سے بلند ترین مرتبے پر فائز ہے، لہذا آپ ذات خداوندی کا کامل ترین مظہر اور تجلی ہیں۔ پس آپ کا وجود، ذاتِ خداوندی کا سب سے بڑا، سب سے بہتر، سب سے شفاف آئینہ, ہے۔

برچسب: نویسنده: هیراد اکبری‌پور تاريخ: شنبه 9 آذر 1398 ساعت: 17:31

صفحه بندی